Infoline: 08444 775 774*

Mon-Fri 9:30am - 5.30pm

Text Service: 07537 416 905

Infoline: 08444 775 774*

Mon-Fri 9:30am - 5.30pm

Text Service: 07537 416 905

Menu

Quick Guide – فوری رہنمائی

کیلئے Anxiety, UK Guide
مزید تفصیلی معلومات کیلئے Anxiety UK کے مہیا کردہ حقائق ناموں کو دیکھیں۔

فکر مندی کے نمایاں خلل
عام یا مخصوص خوف (Simple or Specific Phobiaa)
فوبیا یا خوف سے مراد ایک چیز یا صورتحال سے پیدا ہونے والا بلا جواز ڈر ہے جو کہ عام طور پر زیادہ لوگوں میں موجود نہیں ہوتا۔ جیسا کہ تعریف سے ظاہر ہے یہ چیزیں یا واقعات قدرتی طور پر موجود ہوتے ہیں اور قابل شناخت بھی مثلاً مچھر کا خوف، بلندی کا خوف، طوفانوں کا خوف وغیرہ۔ کسی بھی قسم کے فوبیا سے فوبیا میں مبتلا شخص پر ہیجان طاری ہو جاتا ہے۔ اس کی بہت سے طبعی علامات بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جانا اور ٹانگوں میں کمزوری کا احساس ہونا وغیرہ۔ لوگ مچھر کی تصویر رکھنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ مچھر کو پکڑنے سے ڈرتے ہیں اور ان کا راستہ فرار کا راستہ ہوتا ہے، مقابل آنے کا نہیں۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ ایک عام خوف بھی مریض میں کس قدر بزدلی پیدا کرتا ہے۔
گوشہ نشینی (Agoraphobia)
یہ ایک پیچیدہ خوف ہے جس میں کئی قسم کے خوف باہم مربوط ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ انہیں تنہا چھوڑ جائیں گے۔ کچھ لوگ کسی ایسی صورتحال میں نہیں پھنسنا چاہتے جہاں انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ انہیں کسی حال میں پھنسا لیا جائے گا یا قابو میں کر لیا جائے گا۔ لوگ گھر کو سب سے محفوظ جگہ سمجھتے ہیں اور سفر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی دوست یا اہل

سکتے ہیں۔ لیکن یہ رویہ بڑی تیزی سے انہیں دوسروں پر انحصار کرنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے خوف کی سنگینی مختلف ہوتی ہے۔ ایک گوشہ نشینی اختیار کئے ہوئے شخص اور ایک لگی بندھی حدود میں سفر کرنے والے شخص میں اس خوف کی سنگینی کی حد میں فرق ہو سکتا ہے۔
سماجی خوف (Social Phobia)
سماجی خوف کو خصوصی خوف کہا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی سماجی یا عوامی صورت حال اس قسم کے خوف کا باعث بن سکتی ہے۔ اس میں کوئی شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ محفل میں ہر ایک کی نظر اس پر ہے اور سب لوگ اس کی اضطراری حرکات کی طرف متوجہ ہیں۔ یہ ایک خصوصی خوف کی حالت اختیار کر لیتا ہے جب آپ دوسروں کے سامنے تقریر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ گھبراہٹ یا شرمندگی طاری ہونے کا خوف آپ کے سماجی رابطے ختم کر دیتا ہے۔ بعض لوگ باہر جا کر کھانا کھانے سے اور پبلک ٹائیلٹ استعمال کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔ اس قسم کے خوف کی طبعی علامات میں جسمانی لرزش، شرمیلا پن اور پسینہ چھوٹ جانا شامل ہیں۔
فکر مندی کے عمومی خلل (Generalized Anxiety Disorders (GAD)
یہ وہ خلل ہے جس میں کوئی شخص مستقل طور پر انتہائی درجے کی فکر مندی میں مبتلا رہتا ہے۔یہ ایک بلاجواز فکر مندی ہوتی ہے اور مریض ہر وقت اپنے آپ کو کھائی کے کنارے پر کھڑا محسوس کرتا ہے۔ یہ فکر ڈپریشن کا باعث بھی بنتی ہے۔ اسے بعض دفعہ آزاد اور رواں دواں فکر مندی (Free floating anxiety) بھی کہا جاتا ہے۔
ہیجان (Panic Disorder)
فکر مندی کے بہت سے امراض میں عام طور پر ہیجان کی کیفیت پیدا ہو جانا ایک مشترک علامت ہے۔ کسی جواز کے بغیر اگر آپ ہیجان میں مبتلا ہوں تو یہ ہیجانی خلل ہے۔ ایسے مریض ایک منٹ میں ٹھیک ہوتے ہیں اور دوسرے ہی منٹ میں ان پر ہیجانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس کی طبعی علامات بڑی واضح ہوتی ہیں۔ مثلاً دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، معدے میں ہلچل اور سنسناہٹ وغیرہ لیکن یہ علامتیں ظاہر ہے کہ بڑی ناخوشگوار ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ نفسیاتی طور پر دہشت موجود ہوتی ہے اور نتیجے میں پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیت بے حد تکلیف دہ ہوتی ہے۔
ذہنی تاثیردگی (Obsessive Compulsive Disorder (OCD))
اس خلل کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں لگاتار اور انجانے خیالات ذہن پر طاری ہوتے ہیں۔ دوسرے انسان اپنے اوپر کچھ عادات بھی طاری کر لینا ہے مثلاً جراثیم کے خوف سے بار بار صابن سے ہاتھ دھوتے رہنا جس کے بعد وہ مطمئن نظر آتا ہیں۔ اس کی اور بھی کئی مثالیں ہیں مثلاً روپے پیسے کو بار بار گننا، بار بار چیک کرنا، کسی چیز کو بار بار تولنا اور ناپنا، موت کا خوف اور خواہش کے بغیر جنسی خیالات کا وقوع پذیر ہونا وغیرہ وغیرہ۔
احساس بدصورتی (Body Dysmophic Disorder/Dismorphibia)
اسے احساس بدصورتی کا چھوٹا نام دیا گیا ہے۔ جسم میں کسی نقص کے بارے میں بہت زیادہ احساس پیدا ہونا ، چاہے یہ اپنے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں۔ ایسے لوگ یہ نقص دور کرنے کے لئے بار بار پلاسٹک سرجری کرانے کے لئے بھی بے تاب رہتے ہیں۔ وہ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے جسمانی نقائص ہر تناسب سے بڑھ جائیں۔
صدمے کے بعد ذہنی دباؤ کا خلل (Post Traumatic Stress Disorder (PTD))
یہ خلل کسی صدمے کی صورتحال کے بعد بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً آپ موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے ہیں یا کسی بڑے حادثے کا شکار ہونے کے بعد ٹھیک ہو رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کے ساتھ ہی ایسا ہوا ہو۔ آپ نے لوگوں کو مرتے دیکھا، حادثات کا شکار ہوتے دیکھا اور آپ کے خاندان کا کوئی فرد یا بے حد گہرا دوست صدمات کی صورت حال سے دوچار ہوا ہو تو یہ خلل پیدا ہو جاتا ہے۔ اس خلل میں مبتلا لوگوں کو پرانے ناخوشگوار خیالات آتے ہیں۔ ہیجانی دورے پڑتے ہیں اور حساسیت انتہا تک چلی جاتی ہے۔